AD Banner

{ads}

( ربیع الاول میں جلوس نکالنے اور جھنڈا لگانے کا ثبوت کہاں سے ہے؟)

(198)

( ربیع الاول میں جلوس نکالنے اور جھنڈا لگانے کا ثبوت کہاں سے ہے؟)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ

مسئلہ:۔ کیا فر ما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ربیع الاول شریف میں جلوس نکالنے اور جھنڈا لگانے کا ثبوت کہاں سے ہے کیا صحابہ کرام سے یہ سارے معمولات ثابت ہیں مکمل مدلل جواب عطافرمائیں      المستفتی:۔ غلام صمدانی دولت پور

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوہاب

سنِ ولادت منانا بھی ایک اچّھا کام ہے جو کسی سنّت کے خلاف نہیں بلکہ عین قرآن و سنّت کے ضابطوں کے مطابِق ہے۔ رب تعالیٰ کی نعمت پر خوشی کا حکم خود قرآنِ پاک نے دیا ہے۔ ارشاد فرربانی ہے ’’ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا‘‘تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں۔(کنز الایمان،سورہ یونس۵۸)

     نیز فرماتا ہے ( وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ) اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

(کنز الایمان،والضحٰی۱۱)

خود حضورِ اکر م صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنا یومِ میلاد روزہ رکھ کر مناتے یعنی آپ ﷺ ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایااسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی۔ (مسلم،ص455، حدیث:2750)

 شارح بخاری امام قسطلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں’’ربیعُ الاوّل چونکہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت کا مہینہ ہے لہٰذا اس میں تمام اہلِ اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کی راتوں میں صدقات اور اچّھے اعمال میں کثرت کرتے ہیں۔ خصوصاً ان محافل میں آپ کی میلاد کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرتے ہیں۔ محفلِ میلاد کی یہ برکت مجرّب ہے کہ اس کی وجہ سے یہ پوراسال امن کے ساتھ گزرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر اپنا فضل و احسان کرے جس نے آپ کے میلاد مبارَک کو عید بناکر ایسے شخص پر شدّت کی جس کے دل میں مرض ہے۔ (المواہب اللدنیہ،ج۱؍،ص۲۷)

شیخ عبدالحق محدّث دِہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے مہینے میں محفلِ میلاد کا انعقاد تمام عالَم ِاسلام کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ اس کی راتوں میں صدقہ خوشی کا اظہار اور اس موقع پر خُصوصاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر ظاہر ہونے والے واقعات کا تذکرہ مسلمانوں کا خُصوصی معمول ہے۔(ماثبت بالسنہ،ص۱۰۲)

خلاصۂِ کلام یہ کہ شریعت کے دائرہ میں رہ کر خوشی منانا ، مختلف جائز طریقوں سے اِظہارِ مَسرّت کرنا اور محافلِ میلاد کا انعقاد کرکے ذکرِ مصطفےٰ کرتے ہوئے ان پر مسرت و مبارک لمحات کو یاد کرنا جو سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت ہے بہت بڑی سعادت مندی کی بات ہے۔

مزید تفصیل کے لئے علمائے اہلِ سنّت کی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔( فتاوی اہلسنت مفتی اصغر عطاری ماہنامہ فیضان مدینہ ربیع الاول ۱۴۴۰ ہجری نومبر ،دسمبر ۲۰۱۸ دعوت اسلامی)

اور جھنڈا لگانا یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی سنت ہے جیسا کہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ سَیِّدَتُنا آمِنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نَصْب کئے گئے۔ ایک مشرِق میں ، دوسرا مغرِب میں ،  تیسرا کعبے کی چھت پر اورنبیِّ رَحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی وِلادت ہوگئی (خَصائِصِ کُبریٰ ج۱ص۸۲ مختصراً بحوالہ عاشقان رسول کی حکایت ص ۲۱۰)

نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے  اس دنیا میں جلوہ فرما ہونے کی وجہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیرکےلئے جلوس نکالنا ، پرچم لہرانا، اور جلوس میں شرکت کرنا اور اپنی اپنی استطاعت کے  مطابق چراغاں اور روشنی کرنا جائز و مستحسن ہے ۔ اور مسلمان آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ولادت باسعادت کے موقع پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیرکےلئے جلوس نکالتے ، خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیر کے لئے جو جائز کام کیا جائے اور اس میں کسی قسم کی خرابی بھی نہ ہو وہ جائز ومستحسن ہے ۔( بنیادی عقائد معمولاتِ اہلسنت ص ۱۲۷ ناشر مکتبہ المدینہ کراچی دعوت اسلامی)واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

 کتبہ

فقیر محمد اشفاق عطاری



فتاوی مسائل شرعیہ 

 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

AD Banner

Below Post Ad

AD Banner AD Banner

Gooogle Adsense Ads